محبت تو اس کو بھی ہے مجھ سے مگر اک مطلب ، مگر اک غرض سے وہ آئے سامنے تو رک گئی سانسیں دِل مچل گیا ،میں برباد ہو گیا تب سے اس ...
محبت تو اس کو بھی ہے مجھ سے
مگر اک مطلب ، مگر اک غرض سے
وہ آئے سامنے تو رک گئی سانسیں
دِل مچل گیا ،میں برباد ہو گیا تب سے
اس کے بعد میں تو جی ہی نہیں پایا
وہ ظالم مجھ کو تنہا کر گیا جب سے
وہ آئے تو تب ہی تھم سکے شاید
طوفان جو برپا ہے سینے میں کب سے
اب مجھے کیا مطلب کسی سے پارسؔ
آج قطع تعلق کرتا ہوں سب سے

تبصرے
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔