نگاہوں میں بسا کر کیا ملے گا تمہیں اپنا بنا کر کیا ملے گا جب معلوم ہے میسر نہیں ہو گے خوامخواہ سر جھکا کر کیا ملے گا جتنا دُب...
نگاہوں میں بسا کر کیا ملے گا
تمہیں اپنا بنا کر کیا ملے گا
جب معلوم ہے میسر نہیں ہو گے
خوامخواہ سر جھکا کر کیا ملے گا
جتنا دُباؤں اُتنا اُبھرنا ہے اسے
پھر درد کو چھُپا کر کیا ملے گا
عالمِ مدہوشی میں رہنے دو ڈُوبا
حالِ دل سنا کر کیا ملے گا
اڑنے دو بے چارے پرندوں کو
انھیں قیدی بنا کر کیا ملے گا
چھوڑو پارسؔ یہ سب افسانوی باتیں
آخر محبت نبھا کر کیا ملے گا

تبصرے
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔