﷽ السلام و علیکم کیسے ہیں آپ سب؟ اُمید ہے بخیریت ہوں گے۔ جیسا کہ ٹائٹل سے واضح ہے آج کا موضوع ہے بچپن کا رمضان بمقابلہ جو...
السلام و علیکم
کیسے ہیں آپ سب؟
اُمید ہے بخیریت ہوں گے۔
جیسا کہ ٹائٹل سے واضح ہے آج کا موضوع ہے
بچپن کا رمضان بمقابلہ جوانی کا رمضان
پہلے تو آپ سب کو میری طرف سے دل کی گہرائیوں سے رمضان مبارک ہو۔ دُعا ہے کہ اللہ آپ کے سبھی گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیں۔
بچپن کے دن جو حسین یادوں اور شرارتوں سے بھرپور ہوتے ہیں
بچپن کی حسین یادیں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
بچپن کا رمضان: بچپن میں نیکیاں کمانے کا بہت شوق ہوتا تھا۔ جہاں کہیں ایسا کام دیکھا کہ جس سے نیکی ملنے کی اُمید ہو، وہ کام جھٹ سے کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے
۔ اگر کسی نے اتنا بول دینا کہ یہ کام کرنے سے، ایسا کرنے سے ثواب ملتا ہے یا وہ کام جو نیکی کے زمرے میں آتے ہوں مثلاً "کسی کو پانی پلانا، کسی بڑے کا کوئی کام کرنا، والدین اور بزرگوں کی خدمت کرنا، اُن کو دبانا، اُن کے کام کرنا وغیرہ" تو ایسے کاموں میں دوسروں سے لڑائی جھگڑے سے بھی گریز نہیں کرنا کہ یہ کام تو میں نے ہی کرنا ہے۔ اگر کوئی اور وہ کام کردیتا تو رونا شروع کردینا
۔ اسی طرح بچپن کے روزے بھی بہت یادگار ہوتے تھے۔ گھر والوں کے ساتھ بہت ذوق و شوق سے سحری کرنا کہ روزہ رکھنا ہے، پھر جب دوپہر کے بارہ بجنے تو گھر والوں نے بولنا "چلو اب روزہ کھول لو"۔ اور ہم نے اُس کو "چڑی روزہ" سمجھ کر ہنسی خوشی کھانا کھا لینا کہ ہمارا تو روزہ ہو گیا
۔ پھر تھوڑے بڑے ہوئے تو سحری تو کر لینی مگر بعد میں پیاس لگنی تو وضو کے دوران یا نہاتے ہوتے بہت سا پانی پی لینا کہ "کونسا کوئی دیکھ رہا ہے"۔
علامہ اقبال نے بھی کیا خوب فرمایا ہے کہ
بچپن کا رمضان: بچپن میں نیکیاں کمانے کا بہت شوق ہوتا تھا۔ جہاں کہیں ایسا کام دیکھا کہ جس سے نیکی ملنے کی اُمید ہو، وہ کام جھٹ سے کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے
۔ اگر کسی نے اتنا بول دینا کہ یہ کام کرنے سے، ایسا کرنے سے ثواب ملتا ہے یا وہ کام جو نیکی کے زمرے میں آتے ہوں مثلاً "کسی کو پانی پلانا، کسی بڑے کا کوئی کام کرنا، والدین اور بزرگوں کی خدمت کرنا، اُن کو دبانا، اُن کے کام کرنا وغیرہ" تو ایسے کاموں میں دوسروں سے لڑائی جھگڑے سے بھی گریز نہیں کرنا کہ یہ کام تو میں نے ہی کرنا ہے۔ اگر کوئی اور وہ کام کردیتا تو رونا شروع کردینا
۔ اسی طرح بچپن کے روزے بھی بہت یادگار ہوتے تھے۔ گھر والوں کے ساتھ بہت ذوق و شوق سے سحری کرنا کہ روزہ رکھنا ہے، پھر جب دوپہر کے بارہ بجنے تو گھر والوں نے بولنا "چلو اب روزہ کھول لو"۔ اور ہم نے اُس کو "چڑی روزہ" سمجھ کر ہنسی خوشی کھانا کھا لینا کہ ہمارا تو روزہ ہو گیا
۔ پھر تھوڑے بڑے ہوئے تو سحری تو کر لینی مگر بعد میں پیاس لگنی تو وضو کے دوران یا نہاتے ہوتے بہت سا پانی پی لینا کہ "کونسا کوئی دیکھ رہا ہے"۔علامہ اقبال نے بھی کیا خوب فرمایا ہے کہ
میرے بچپن کے دن بھی کیا خوب تھے اقبالؔ
بے نمازی بھی تھا اور بے گناہ بھی
اور تو اور افطاری کے وقت بھی عید ہوجاتی
جب گھر والے افطاری کی چیزیں بنا رہے ہوتے تو ہمیں چکھانی کے سب کچھ ٹھیک ہے کہ نہیں؟
پھر افطاری میں دسترخوان پہ سب سے پہلے پہنچ جانا، گویا بہت روزہ لگ رہا ہو۔
بچپن میں نہ بھوک برداشت ہوتی تھی اور نہ ہی پیاس، مگر پھر بھی "صرف" نیکی کے لالچ میں بہت کچھ جھیل لیتے تھے۔
جوانی کا رمضان: جوانی جب انسان پر آتی ہے تو پھر وہ پہلے والی بات نہیں رہتی۔ انسان عبادت وغیرہ تو کرتا ہے مگر اُس میں وہ پہلے والی لگن، وہ پہلی خالصیت باقی نہیں رہتی، کیونکہ روزہ تو "پُورا" ہی رکھنا پڑتا ہے اور بھوک تو قابل برداشت ہوتی ہے مگر مارے گرمی اور کچھ واپڈا والوں کی مہربان "کے پہلے سال بھر یاد نہیں آتا اور جیسے ہی انہیں خبر ہوتی ہے کہ رمضان کا چاند دکھ گیا فوراً لائٹ بند کر دینی کہ شیطان تو اب قید ہو گیا
تو اب ہم کس لیے بیٹھے ہیں؟ اور کچھ واپڈا والے ہمیں پُرانا زمانہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ دیکھو کہ پہلے جب لائٹ ایجاد ہی نہیں ہوئی تھی تو تب بھی رمضان آتا تھا اور تب بھی لوگ روزے رکھتے تھے" پیاس سے "مَت وج جاندی اے
"۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے آج سے تقریباً چار سال پہلے رمضان میں ایک روزہ ایسا بھی گزرا کہ میں سہہ پہر ڈرائنگ روم میں ائیر کولر چلا کر سویا ہوا تھا کہ مجھے باہر سے آواز پڑی "باہر آنا"، میں نکلنے ہی لگا تھا کہ ڈرائنگ روم کے دروازے میں چکرا کر گِر پڑا
، پھر جو میرے گھر والے مجھے آواز دے کر بلا رہے تھے اُن کو خود آنا پڑا میرے لیے
۔
جب گھر والے افطاری کی چیزیں بنا رہے ہوتے تو ہمیں چکھانی کے سب کچھ ٹھیک ہے کہ نہیں؟پھر افطاری میں دسترخوان پہ سب سے پہلے پہنچ جانا، گویا بہت روزہ لگ رہا ہو۔
بچپن میں نہ بھوک برداشت ہوتی تھی اور نہ ہی پیاس، مگر پھر بھی "صرف" نیکی کے لالچ میں بہت کچھ جھیل لیتے تھے۔
جوانی کا رمضان: جوانی جب انسان پر آتی ہے تو پھر وہ پہلے والی بات نہیں رہتی۔ انسان عبادت وغیرہ تو کرتا ہے مگر اُس میں وہ پہلے والی لگن، وہ پہلی خالصیت باقی نہیں رہتی، کیونکہ روزہ تو "پُورا" ہی رکھنا پڑتا ہے اور بھوک تو قابل برداشت ہوتی ہے مگر مارے گرمی اور کچھ واپڈا والوں کی مہربان "کے پہلے سال بھر یاد نہیں آتا اور جیسے ہی انہیں خبر ہوتی ہے کہ رمضان کا چاند دکھ گیا فوراً لائٹ بند کر دینی کہ شیطان تو اب قید ہو گیا
تو اب ہم کس لیے بیٹھے ہیں؟ اور کچھ واپڈا والے ہمیں پُرانا زمانہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ دیکھو کہ پہلے جب لائٹ ایجاد ہی نہیں ہوئی تھی تو تب بھی رمضان آتا تھا اور تب بھی لوگ روزے رکھتے تھے" پیاس سے "مَت وج جاندی اے
"۔مجھے اچھی طرح یاد ہے آج سے تقریباً چار سال پہلے رمضان میں ایک روزہ ایسا بھی گزرا کہ میں سہہ پہر ڈرائنگ روم میں ائیر کولر چلا کر سویا ہوا تھا کہ مجھے باہر سے آواز پڑی "باہر آنا"، میں نکلنے ہی لگا تھا کہ ڈرائنگ روم کے دروازے میں چکرا کر گِر پڑا
، پھر جو میرے گھر والے مجھے آواز دے کر بلا رہے تھے اُن کو خود آنا پڑا میرے لیے
۔
والسلام
تحریر : پارسؔ سہیل


تبصرے
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔