قارئین آج کی اس بزم میں، میں دکھوں ، غموں اور درد کی انتہا پر کچھ لکھ رہا ہوں۔ اُمید ہے آپ پسند فرمائیں گے۔ جب درد و کرب کے ہ...
قارئین آج کی اس بزم میں، میں دکھوں ، غموں اور درد کی انتہا پر کچھ لکھ رہا ہوں۔
اُمید ہے آپ پسند فرمائیں گے۔
اُمید ہے آپ پسند فرمائیں گے۔
جب درد و کرب کے ہتھوڑے ذہن و دل پہ بجھتے ہوں۔جب ہجر کی سوئیاں جسم کے ہر حصے پر چبھتی ہوں۔
جب ستم کے مارے لوگ، جب عشق کے مارے لوگ خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جائیں۔
جب اُداسیاں کسی پل آرام نہ لینے دیں۔
جب اشک روتی آنکھیں خون رونے پر آمادہ ہو جائیں۔
جب رنج و الم، دسمبر کی سردی کی مانند جسم میں سرائیت کرجائیں۔
جب دُکھ جسم میں خون کی مانند دوڑے۔
جب انسان، انساں نہ رہے۔
جب اکیلا پن کاٹ کھانے کو دوڑے۔
جب الجھنیں، جب پریشانیاں جان لینے پر تل جائیں۔
جب وحشتیں انسان کو جینے نہ دیں۔
جب آرزوئیں پھندہ بن کر گلے میں ڈل جائیں۔
جب اِک سوگ سا جسم و جان میں برپا رہے۔
جب اِک وحشت سی ذہن و دل پہ طاری رہے۔
جب انسان ذلت کی پستیوں میں ڈوبا رہے۔
جب انسان اپنا وجود ہی بھول جائے۔
جب انسان عشق کے بوجھ تلے دبا رہے۔
جب انسان درد و کرب کی داستاں ہو۔
جب دکھ اُس کے چہرے سے عیاں ہو۔
جب انسان یادوں کے کاندھے پہ سر رکھ سوئے۔
جب انسان روز آنسوؤں سے تکیے کو بھگوئے۔
جب سانسیں بےترتیب و بےتاب رہیں۔
دل کی بستیاں بھی آنسوؤں سے سیراب رہیں۔
جب آنکھوں کے گرد حلقے پڑ جائیں۔
جب اداسیاں کسی پل چین نہ لینے دیں۔
جب انسان اپنے آپ میں ہی مگن رہے۔
جب انسان کسی سے کچھ نہ بولے۔
جب نیند آنکھوں سے روٹھ جائے۔
جب انسان کو خوشیاں بھی راس نہ آئیں۔
جب دل بھی دھڑکنا بھول جائے۔
جب سانسیں لینا دشوار ہوجائے۔
جب آنسو پینا کمال ہو جائے۔
جب ہر سُو دشت ملے۔
جب کوئی نہ سنگ چلے۔
جب ہجر کا موسم ہر پل رہے۔

تبصرے
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔