یادوں کی سولی پہ چڑھتا رہا رات بھر دِل ہی دِل میں کڑھتا رہا رات بھر نیندیں تو کب کی مجھ سے خفا ہوگئیں گیلی آنكھوں سے جگتا رہا را...

یادوں کی سولی پہ چڑھتا رہا رات بھر
دِل ہی دِل میں کڑھتا رہا رات بھر
نیندیں تو کب کی مجھ سے خفا ہوگئیں
گیلی آنكھوں سے جگتا رہا رات بھر
ہوائیں آ آ کر ٹکراتیں رہیں مگر
میں بس چاند کو تکتا رہا رات بھر
گم سم ، چُپ چاپ دیوار سے لگ کر
ہجر کی آگ میں جلتا رہا رات بھر
قطرہ قطرہ گرتے اشکوں کی بارش اور
درد و کرب میں سلگتا رہا رات بھر
دن بھر زمانے کی رنگینیوں میں ڈوبا
جانے کیسے پارسؔ پِھرمرتا رہا رات بھر
تبصرے
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔